رانچی،29؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) پر ریاستی حکومت کی طرف سے عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ جس سے ریاستی حکومت کو زبردست جھٹکا لگا ہے اور پی ایف آئی کو بھی عدالت کے اس فیصلہ سے راحت مل گئی ہے۔جسٹس رنگن مُکھوپادھیائے نے سوموار کو اپنے فیصلے میں ریاستی حکومت کے 21 فروری 2018 کے اس حکم کو خارج کر دیا جس میں PFI پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی گئی تھی کہ یہ تنظیم ISIS سے متاثر ہے۔
پی ایف آئی کی طرف سے عبدالودود نامی شخص نے ہائی کورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے پی ایف آئی پر بنا گزٹ میں شائع کیے پابندی کو غلط ٹھہرایا اور کہا کہ پابندی عائد کرنے کا یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ عدالت نے تنظیم کے خلاف دائر ایف آئی آر کو بھی خارج کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ مئی 2018 میں جھارکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے ریاست میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کردی تھی اور کئی ایک ممبران کو گرفتار بھی کرلیاگیاتھا ۔بتایا گیا تھا کہ حکومت نے پی ایف آئی کے مرکزی دفتر کو کوئی نوٹس جاری کئے بغیر ہی پابندی عائد کی تھی ،البتہ وزیر اعلی کی ویب سائٹ پر ایک لیٹراپلوڈ کیاگیا تھاجس میں پی ایف آئی پر پابندی کا تذکرہ کیا گیا تھا ۔پابندی عائد ہونے کے بعد پی ایف آئی نے رانچی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جہاں حکومت پابندی کی وجہ بتانے میں ناکام رہی اور نہ ہی پی ایف آئی اور اس کے ممبران کے خلاف کسی طرح کی غیر قانونی سرگرمی ثابت کرسکی ۔
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے چیرمین این ابو بکر نے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ عدلیہ کے فیصلے نے بی جے پی حکومت کو بے نقاب کردیاہے کہ وہ کس طرح اپنا ایجنڈا عوام پر تھوپ رہی ہے اور بغیر کسی ثبوت کے پابندی لگارہی ہے ۔جمہوری آوازوں کا گلاگھونٹ رہی ہے ۔
آل انڈیا ملی کونسل کے جنر ل سکریٹری اور معروف اسکالر ڈاکٹر منظور عالم نے بھی رانچی ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ایک پریس ریلیز جاری کرکے انہوں نے کہاکہ عدلیہ کا فیصلہ قابل ستائش اور موجودہ سرکار کیلئے درس عبر ت ہے ۔حکومت تعصب کی عینک لگائے ہوئی ہے جس کی بنیاد پر وہ اچھے کام کرنے والوں کو بھی پسند نہیں کررہی ہے اور بلاثبوتوں کے پابندی لگارہی ہے ۔